ابنا: امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگي سے پاکستانی حکومت کے اعلی حکام لاعلم نہیں تھے۔دوسری امریکی صدر باراک اوباما نے بھی اپنے ایک بیان میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ جب تک میں صدر ہوں پاکستان میں القاعدہ کی محفوظ پناہ گاہیں برداشت نہیں کروں گا۔ امریکہ نے گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان کو کئی ارب ڈالر کی امداد دی ہے جس کا زیادہ تر حصہ امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری یا اس کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں صرف ہوا ہے۔ امریکہ اب پاکستان کو امداد روکنے کی دھمکی دے کر کوشش کر رہا ہے کہ وہ اس کو پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک حربے کے طور پر استعمال کرے۔ امریکی وزیر خارجہ نے ایک ایسے وقت میں اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگي کے بارے میں پاکستان کے سیاسی و فوجی حکام کی لاعلمی کے سلسلے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ جب امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کچھ عرصہ قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پاکستان کے اعلی حکام کو اسامہ کے بارے میں اطلاع نہیں تھی۔ اس بنا پر ایسا لگتا ہے کہ امریکی حکام کے اندر بھی اسامہ کے ایبٹ آباد میں موجود ہونے کے بارے میں پاکستانی حکام کے لاعلم ہونے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان حالات میں امریکہ پاکستان کی فوجی اور مالی امداد روکنے کی دھمکی دے کر پاکستانی حکومت کو افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ پاکستان اپنے قبائلی علاقوں پر امریکہ کے ڈرون حملوں ، اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی اور ایبٹ آباد میں امریکہ کے خود سرانہ کمانڈو آپریشن پر سخت اعتراض کر رہا ہے اور امریکہ کے ان اقدامات سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں سردمہری آ گئی ہے۔ ان حالات میں ایسا نظر آتا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کے بارے میں پاکستانی حکام کی لاعلمی پر شکوک و شبہات کا اظہار کر کے انہیں دفاعی پوزیشن میں لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں امریکہ نے یہ دعوی بھی کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے چند اعلی افسروں کے شمالی وزیرستان میں شدت پسند گروہوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اگرچہ پاکستانی فوج کے بعض اعلی افسروں کو اس سلسلے میں گرفتار بھی کیا گيا یا ان سے پوچھ گچھ کی گئی ہے لیکن پاکستان کی حکومت اور فوج شدت پسندوں کے ساتھ فوجی افسران کے تعلقات کے الزام کو مسترد کرتی ہے۔ بہرحال امریکہ کا پاکستان کو دی جانے والی مالی اور فوجی امداد کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرنا کوئي نئی بات نہیں ہے اسی بنا پر پاکستان میں حکومت اور امریکہ حلقوں نے ہمیشہ پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی پالیسیوں سے دوری اختیار کر کے ملک کے امور میں امریکہ کی بڑھتی ہوئي مداخلت کو روکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز